عین اس وقت پر جب وہ اپنی نگاہیں گاڑ کر بیٹھا ہوا تھا اس نے توبہ کر لی. یکسر اس کی دنیا یوں بدل گئی جیسے دشت گلستان ہو جائے. بسترِمرگ پر پڑا ہوا مریض ازلی شفا لے کر اٹھ گیا ہو. رحمتوں کا نزول نا صرف اس پر بلکہ اردگرد لوگوں پر ساون کی پہلی بارش کی بوندوں کی مانند اتر رہا ہو.. یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ہر گناہ ہر عیب سے اس کا بدن دھو دیا گیا ہو. نماز روزہ زکوۃ حج... یہ تو عام باتیں تھیں.. حقوقِ العباد، وہ پورے کر پا رہا تھا. زبان میں لزت، لہجے میں نرمی، اور احساس تو جیسےروح میں اتر گیا تھا... وہ اللہ کے اچانک اتنا قریب ہو گیا تھا جتنا انسان اللہ کے قریب ہو سکتا ہے... جتنا اس کے لئے ممکن تھا..... ایک انسانی جان کےلیے... پارسائی کا یہ سفردراز ہونےہی والا تھا کہ سراب ٹوٹ گیا... فلاں عرصے بعد توبہ کر لوں گا... اس نے یہ کہہ کر آج کی ہوئی توبہ بھی توڑ دی... آج پھر گناہ کی لزت نے اللہ کے خوف کو مات دے دی.... آج پھر اس نے یہ سوچ لیا کہ بس تھوڑی اور جوانی جی لوں پھر اللہ سے معافی مانگ لوں گا... ایسا کرتے کرتے وہ دنیا میں کب غافل ہو گیا... کب وہ تو بہ کے خیال سے بھی اجنبی ہو گیا.... اور کب اس کے دل پر مہر لگا دی گئی.. کچھ پتہ نہیں چلا... دنیا کی گردش ایسی ہی یے... اس میں پڑا ہوا انسان اس کے غبار سے کبھی نہیں بچ سکتا... اللہ کےقرب کا سفر جوش کے ساتھ صحیح مگر تحمل سے طے کیا جاتا ہے... تھوڑا ہی سہی مگر پختہ کیا جاتا ہے.. آج ایک قدم اگر آگے نہیں بڑھا تو پیچھے جانے کے امکانات بھی نہیں ہونے چاہیے... فی الامان اللہ ...
سراب
Wednesday, July 24, 2019
عین اس وقت پر جب وہ اپنی نگاہیں گاڑ کر بیٹھا ہوا تھا اس نے توبہ کر لی. یکسر اس کی دنیا یوں بدل گئی جیسے دشت گلستان ہو جائے. بسترِمرگ پر پڑا ہوا مریض ازلی شفا لے کر اٹھ گیا ہو. رحمتوں کا نزول نا صرف اس پر بلکہ اردگرد لوگوں پر ساون کی پہلی بارش کی بوندوں کی مانند اتر رہا ہو.. یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ہر گناہ ہر عیب سے اس کا بدن دھو دیا گیا ہو. نماز روزہ زکوۃ حج... یہ تو عام باتیں تھیں.. حقوقِ العباد، وہ پورے کر پا رہا تھا. زبان میں لزت، لہجے میں نرمی، اور احساس تو جیسےروح میں اتر گیا تھا... وہ اللہ کے اچانک اتنا قریب ہو گیا تھا جتنا انسان اللہ کے قریب ہو سکتا ہے... جتنا اس کے لئے ممکن تھا..... ایک انسانی جان کےلیے... پارسائی کا یہ سفردراز ہونےہی والا تھا کہ سراب ٹوٹ گیا... فلاں عرصے بعد توبہ کر لوں گا... اس نے یہ کہہ کر آج کی ہوئی توبہ بھی توڑ دی... آج پھر گناہ کی لزت نے اللہ کے خوف کو مات دے دی.... آج پھر اس نے یہ سوچ لیا کہ بس تھوڑی اور جوانی جی لوں پھر اللہ سے معافی مانگ لوں گا... ایسا کرتے کرتے وہ دنیا میں کب غافل ہو گیا... کب وہ تو بہ کے خیال سے بھی اجنبی ہو گیا.... اور کب اس کے دل پر مہر لگا دی گئی.. کچھ پتہ نہیں چلا... دنیا کی گردش ایسی ہی یے... اس میں پڑا ہوا انسان اس کے غبار سے کبھی نہیں بچ سکتا... اللہ کےقرب کا سفر جوش کے ساتھ صحیح مگر تحمل سے طے کیا جاتا ہے... تھوڑا ہی سہی مگر پختہ کیا جاتا ہے.. آج ایک قدم اگر آگے نہیں بڑھا تو پیچھے جانے کے امکانات بھی نہیں ہونے چاہیے... فی الامان اللہ ...
Subscribe to:
Posts (Atom)